ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور کے قریب سورتکل میں پھر ایک مسلم شخص کا قتل؛ ریاست میں لاء اینڈ آرڈرکی صورتحال پر اُٹھ رہے ہیں سوال

مینگلور کے قریب سورتکل میں پھر ایک مسلم شخص کا قتل؛ ریاست میں لاء اینڈ آرڈرکی صورتحال پر اُٹھ رہے ہیں سوال

Sun, 25 Dec 2022 00:35:18    S.O. News Service

مینگلور24 ڈسمبر(ایس او نیوز)چند ماہ قبل ایک کے بعد ایک ہوئے تین لوگوں کے قتل کے بعد آج سنیچر کو پھر ایک شخص کے پیٹ میں چُھرا گھونپ کر اُسے موت کے گھاٹ اُتاردیا گیا جس کے ساتھ ہی پھر ایک بار سورتکل سمیت مینگلورکے عوام میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متوفی کی شناخت عبدالجلیل کاٹی پلّا(45) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ وہ سورتکل کے کاٹی پلّا میں واقع لطیفہ اسٹور کا مالک تھا، سنیچرشام کووہ اپنی دکان پر تھا جب اچانک دو افراد  نے اس پرحملہ کردیا اور اس کے پیٹ میں چاقو گھونپ دیا۔ عبدالجلیل کو فوری طور پر سورتکل کے قریب مُکّا اسپتال میں داخل کیا گیا  مگر اسپتال پہنچنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاکر وہ چل بسا۔ انا للہ و اناالیہ راجعون

پتہ چلا ہے کہ بعد میں پولس نے ضروری کاروائیوں کے لئے میت کودوسرے ایک پرائیویٹ اسپتال میں منتقل کیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ کرنے کے بعد شرپسند موقع پر سے فرار ہوگئے۔ حملہ کرنے کی صحیح وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

یاد رہے کہ ساحلی کرناٹک کے ضلع جنوبی کینرا میں ماہ جولائی میں دس دنوں کے اندراندر تین لوگوں محمد بی مسعود، پروین نیٹارو اور محمد فضیل کا قتل ہوا تھا۔ اب ڈسمبر میں پھر ایک مسلم شخص کا چھرا گھونپ کر قتل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سورتکل میں ماہ جولائی میں اسی طرح کی ایک واردات میں ایک دکان کے سامنے کار پر آئے بدمعاشوں کے گروپ نے 24 سالہ محمد فضیل نامی نوجوان کا قتل کردیا تھا۔ قتل کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں میں قید حملہ کرنے کا منظر سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ آج جلیل پر بھی اُسی طرح کا وار کیا گیا اور حملہ کرنے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔

عبدالجلیل کی موت کے بعد علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی، حملہ کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں بھی کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔  مگراطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام جائے واردات پر پہنچ گئے اور معاملے کی چھان بین شروع کردی۔ جلیل کی موت کو لے کر پولیس فرقہ وارانہ سمیت تمام زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ 

ریاست میں لاء اینڈ آرڈرتباہ: عبدالجلیل کی موت پرکانگریس کے سابق ایم ایل اے محی الدین باوا نے سخت مذمت کرتے ہوئے ریاست کی بی جے پی حکومت پرسخت تنقید کی۔ انہوں نے بتایا کہ قتل کی تازہ واردات کے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پرماہ جولائی میں فضیل نامی نوجوان کو قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے  کہا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر تباہ ہو گیا ہے اور کرناٹک میں ایک کے بعد ایک لوگوں کا قتل ہو رہا ہے۔ باوا نے کہا، "پچھلی بار جب وزیراعلیٰ منگلورو میں تھے تو فضیل کا قتل ہوا اور اب وزیر داخلہ کی جائے وقوع کے قریب موجودگی میں جلیل کا قتل ہوا ہے۔

عبدالجلیل کی موت پر ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (DYFI) کے ریاستی صدرمُنیر کاٹی پلّا نے ایک بیان میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو قانون کا کوئی خوف نہیں ہے جس کی وجہ سے قتل کی وارداتیں عام ہورہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس قتل کی منصفانہ تحقیقات کرے اور حملے کے پس پردہ افراد کو گرفتار کرے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عوام سے کسی بھی  طرح کی افواہوں پر کان نہ دھرنے کی بھی صلاح دی اور کہا کہ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں انتخابات قریب ہیں، جس کو دیکھتے ہوئے انہوں نے عوام الناس پر شرپسندوں کی عوام کو تقسیم کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دینے اور عوام کوغنڈہ عناصروں کے خلاف متحد ہونے پر زور دیا۔


Share: